Not For Sale ….

پورے دن کی مزدوری کرنے کے بعد بھی اسے آج کے مہنگاہی والے دور میں 320 روپیہ ملے ۔۔۔ جب وہ تھکا ہارا گھر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ ” ماں ” تو شدید بیمار ہے اب اس کے پاس ایک ہی راہ تھی صبحِ نور کا انتظار کیا جائے اور ماں جی کو سرکاری ہسپتال لے جائے کیوں کہ پرائیویٹ کلینک کے اخراجات اس کی برداشت سے باہر تھے اب اسے اگلے دن کا ناگہ بھی کرنا ہوگا کیوں کہ سرکاری بابو تو اپنی ہی مرضی سے آتے ہیں ۔۔۔ پوری رات نیند تو نا آئی لیکن طرح طرح کے خیالات دماغ کا طواف ضرور کرتے رہے ، جب صبح ہوئی تو شفاعت ماں جی کو سرکار کی بنائی ہوی نئی #میٹرو_بس میں سواری کراکے ہسپتال پہنچا ، سوا گھڑی کہ اس سفر کے لیے اسے پورے 40 روپیہ دینے پڑے ، ہسپتال پہنچنے پر اب اس کی جیب میں صرف 260 روپیہ تھے یااللہ کچھ رحم فرما ۔۔۔ جب وہ OPD سے پرچی بنواکر واپس ماں جی کے پاس آیا تو کہنے لگا ماں جی 1 گھنٹہ انتظار کرنا پڑے گا ۔۔۔ بابو صاحب اپنے ذاتی کام کی وجہ سے کچھ لیٹ سے آئیں گے ۔۔۔ ہاں بیٹا اپنی مرضی کے مالک ہیں ۔۔۔ یہ بھی غنیمت ہے 20 روپیہ کے عیوض ہمیں سرکاری سٹور سے دوائی تو مفت مل جائیگی ۔۔۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہویں اور ڈاکٹر صاحب آن پہنچے شفاعت اپنی باری آنے پر ماں جی کو ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں لے گئے ۔۔۔ اندر تو بڑی ٹھنڈک تھی ۔۔ بابو جی نے چیک کیا ۔۔ کچھ دوائی اور کچھ ٹیٹس تجویز کیں ۔ ۔۔۔ شفاعت ماں جی کو بینچ پر بٹھا کر ہسپتال کے میڈیکل سٹور پر پہنچا ۔۔۔ ہاں جی لاؤ پرچی ۔۔ یہ دوائی لو اور باقی کی دوائی باہر والے سٹور سے لیتے جانا 60 روپیہ لاؤ ۔۔ ۔ جی یہاں تو مفت میں دوائی دی جاتی ہے تو جناب پیسے کس چیز کے ۔۔۔ میاں اس جہاں میں مفت میں کیا ملتا ہے ۔۔۔ !! پیسے دو اپنی دوائی لو بحث کا وقت نہیں ۔۔۔ ماں جی بولی بیٹے دیدو پیسے ۔۔۔

ماں جی گھر بھی واپس جانا ہے ۔۔۔ شفاعت نے تھیلی اٹھائی اور چلتا بنا ۔۔ جب باہر والے سٹور پر پہنچا تو اس کی جیب میں باقی کے 150 ، 200 روپیہ تھا اب اسے دوائی بھی لینی تھی ، واپس گھر بھی جانا تھا ، ماں جی کی کچھ ضروری ٹیٹس بھی کروانے تھے ۔۔۔ سٹور والا لاؤ جناب پرچی دو ۔۔۔ یہ لیں آپکی دوائی ۔۔۔ جب اس نے دوائی اٹھاکے دیکھی تو وہ دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔ اس نے آٹھویں جماعت تک تو پڑھا ہی تھا لیکن آگے نا پڑھ سکا ۔۔۔ تقریباً ہر دوائی پر یہ عبارت درج تھی ۔۔۔

Not For Sale

۔۔۔ اسے دوائی کے 400 روپیہ دینا تھا جو کل رقم اس کے پاس موجود نہ تھی ۔۔۔ اب اس نے سوچا کہ پیسے تو پورے ہیں نہیں تو کیوں نا اپنا ٹوٹا پھوٹا موبائل ہی رہن رکھوا دے ۔۔ جب اس نے یہ درخواست کی تو سٹور مالک کچھ غصے ہوا ۔۔۔ پہلے تو کہا کہ بھئی یہ نہیں ہوسکتا میں آپ کو جانتا تک نہیں ۔۔۔ لیکن کچھ دیر بعد بات مان لی شاید اس نے سوچا ہو کہ دوائی تو ویسے بھی سرکار کی ہے جس سے میں پیسے بٹور رہا ہوں ۔۔ ۔۔ یا شاید اپنی ہی بوڑھی ماں یاد آگئی ہو ۔۔۔ ماں جی کو دیکھتے ۔ ۔۔ اس نے ٹھنڈی سی آہ بھری ۔۔ گھڑی پل کا احساس ۔۔۔ شفاعت دوائی اٹھا کر ۔۔ سٹور سے باہر نکل آیا ۔۔۔ اور کہنے لگا ….

اللہ بہتر کرے گا …..

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s